السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما تلبس المرأة المحرمة من الثياب باب: محرم عورت جو کپڑے پہن سکتی ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 9076
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِابْنِ شِهَابٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ يَعْنِي يَقْطَعُ الْخُفَّيْنِ لِلْمَرْأَةِ الْمُحْرِمَةِ، ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ، فَتَرَكَ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما محرمہ عورت کے لیے موزے کاٹنے کا حکم دیتے تھے، پھر ان کو صفیہ بنت عبید نے بتایا کہ اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”عورتوں کو موزوں کی رخصت دی ہے“ تو انہوں نے بھی چھوڑ دیا۔
(ب) ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدہ اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے اور نافع سے اس قول تک ذکر کیا ہے: «وَمَا مَسَّهُ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ» ”اور وہ لباس جسے ورس اور زعفران لگا ہو“، اس کے بعد والی عبارت دونوں نے ذکر نہیں کی۔