السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من لم يجد الإزار لبس سراويل ومن لم يجد النعلين لبس خفين باب: جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے اور جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے۔
حدیث نمبر: 9067
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ قَالَ عُمَرُ: وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ عَبَّاسٍ الْقَطْعَ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أِيَّ الْحَدِيثَيْنِ نَسَخَ الْآخَرَ.حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ عمرو نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (موزے) کاٹنے کا ذکر نہیں کیا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اور انہیں کاٹ لے یہاں تک کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔“ تو میں نہیں جانتا کہ دونوں حدیثوں میں سے کس نے دوسری کو منسوخ کیا۔