حدیث نمبر: 9039
اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ

نبی کریم ﷺ کے اس سابقہ فرمان سے استدلال کرتے ہوئے کہ: ”سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " لَا تَصْعَدُ الْمَرْأَةُ فَوْقَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَا تَرْفَعُ صَوْتَهَا بِالتَّلْبِيَةِ " مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت صفا و مروہ پر نہ چڑھے اور نہ ہی بآوازِ بلند تلبیہ کہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9039
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ دارقطني 2/295»