أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ فِي بَنِي سَلَمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى اسْتَوَتْ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ وَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: " لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ " قَالَ: وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلَامِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلَا يَقُولُ لَهُمْ شَيْئًا.جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ بنو سلمہ میں تھے، ہم نے ان سے نبی ﷺ کے حج کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ جب آپ ﷺ کی اونٹنی بیداء پر چڑھی تو آپ ﷺ نے توحید کا تلبیہ کہا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، یقیناً تمام تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں“، کہتے ہیں کہ لوگ اس میں «ذَا الْمَعَارِجِ» وغیرہ کے الفاظ زیادہ کرتے، جبکہ نبی ﷺ سن رہے تھے اور آپ ﷺ نے ان کو کچھ بھی نہیں کہا۔