السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: رفع الصوت بالتلبية باب: بلند آواز سے تلبیہ پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي الْأَزْرَقِ قَالَ: " أِيُّ وَادٍ هَذَا؟ " فَقَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ قَالَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللهِ تَعَالَى بِالتَّلْبِيَةِ "، ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى، قَالَ: " أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ قَالُوا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى، قَالَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ وَهُوَ يُلَبِّي " قَالَ هُشَيْمٌ: يَعْنِي: لِيفٌ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ وادیِ ازرق کے پاس سے گزرے تو پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ انہوں نے کہا: وادیِ ازرق۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو ٹیلے سے اترتا دیکھ رہا ہوں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا قرب ہے تلبیہ کے ساتھ۔“ پھر ہرشی نامی ٹیلہ پر پہنچے اور پوچھا: ”یہ کون سا ٹیلہ ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ہرشی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا کہ میں یونس بن متی علیہ السلام کو سرخ رنگ کی اونٹنی پر دیکھ رہا ہوں، ان پر اون کا جبہ ہے اور ان کی اونٹنی کی مہار «خُلْبَة» ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“ ہشیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: «خُلْبَة» کا معنیٰ کھجور کے پتوں کی رسی ہے۔