السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: استقبال القبلة عند الإهلال باب: احرام باندھتے وقت قبلہ رخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8991
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِّلَتْ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَأَهَلَّ "، قَالَ: " ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْحَرَمَ أَمْسَكَ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ "، قَالَ: " فَيُصَلِّي بِهِ الْغَدَاةَ ثُمَّ يَغْتَسِلُ، فَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ الْأَكْبَرِ.حافظ ثناء اللہ
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ آتے تو سواری کا حکم دیتے، اس پر کجاوا کسا جاتا، پھر صبح کی نماز پڑھ کر اس پر سوار ہوتے اور جب وہ سیدھی ہو جاتی تو قبلہ رخ ہو کر تلبیہ کہتے، پھر کہتے رہتے حتیٰ کہ حرم میں پہنچ جاتے تو رک جاتے، پھر جب ذی طویٰ میں آتے تو وہیں رات گزارتے اور وہیں صبح کی نماز پڑھتے، پھر غسل کرتے اور سمجھتے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے۔