حدیث نمبر: 8980
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ ⦗٥٨⦘ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيَيْنِ، رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ، إِذَا رَأَوَا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا؛ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغُ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ

عبیداللہ بن جریج نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ چار ایسے کام کرتے ہیں جو آپ کے دوسرے ساتھی نہیں کرتے، تو انہوں نے کہا: ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ارکان میں سے صرف یمانیوں کو ہی چھوتے ہیں اور بغیر بال کے جوتے پہنتے ہیں اور زردی کے ساتھ رنگ دیتے ہیں اور جب آپ مکہ ہوتے ہیں تو لوگ چاند دیکھ کر تلبیہ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آپ یوم ترویہ کو تلبیہ کا آغاز کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو ارکان کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو صرف یمانی رکنوں کا استلام کرتے ہی دیکھا ہے اور بے بال جوتوں کی بات تو میں رسول اللہ ﷺ کو ایسے جوتے پہنے دیکھا ہے، جن پر بال نہ ہوتے اور انہی میں آپ ﷺ وضو بھی فرماتے اور میں بھی یہی پہننا پسند کرتا ہوں اور رہی زردی کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے ساتھ رنگ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو میں بھی اسی کے ساتھ رنگنا ہی پسند کرتا ہوں اور تلبیہ تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو تلبیہ کہتے نہیں سنا جب تک آپ ﷺ کی اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر نہ اٹھ جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8980
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5513۔ مسلم 1187»