السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: النهي عن التزعفر للرجل وإن لم يرد إحراما باب: مرد کے لیے زعفران لگانے کی ممانعت کا بیان، اگرچہ وہ احرام کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًا وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ، فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ: " اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ "، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ رَدْعٌ فَسَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ " فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جِنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ، وَلَا الْمُتَضَمِّخِ بِالزَّعْفَرَانِ وَلَا الْجُنُبِ، وَرُخِّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ ".سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت گھر آیا اور میرے ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو انہوں نے مجھے زعفران لگا دیا، صبح میں نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور سلام کیا تو نہ تو آپ ﷺ نے مجھے سلام کا جواب دیا اور نہ ہی خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”جا اور اس کو دھو کر آ۔“ میں گیا اور اس کو دھویا اور پھر آیا اور کچھ نشان سا ابھی اس کا باقی تھا تو میں نے سلام کیا، آپ ﷺ نے نہ مجھے سلام کا جواب دیا اور نہ ہی «مَرْحَبًا» ”مرحبا“ کہا اور فرمایا: ”جا کر اس کو دھو کر آ۔“ میں نے اس کو دھویا اور پھر آ کر سلام کیا، آپ ﷺ نے مجھے سلام کا جواب دیا اور «مَرْحَبًا» ”مرحبا“ کہا اور فرمایا: ”فرشتے کافر کے جنازے پر خیر کے ساتھ نہیں آتے اور نہ ہی جنبی کے پاس اور نہ ہی زعفران لگانے والے کے پاس۔“ پھر آپ ﷺ نے جنبی کو رخصت دی کہ جب وہ کھانے یا سونے لگے تو وضو کر لے۔