أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى الدَّيْرَعَاقُولِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَهُمْ حُجَّاجٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ؟ "، قَالَ: شَيْءٌ طَيَّبَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَعَمْرِي أُقْسِمُ بِاللهِ لَتَرْجِعَنَّ إِلَيْهَا حَتَّى تَغْسِلَهُ فَوَاللهِ لَأَنَ أَجِدَ مِنَ الْمُحْرِمِ رِيحَ الْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَجِدَ مِنْهُ رِيحَ الطِّيبِ " قَالَ الشَّيْخُ: وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ لَمْ يَبْلُغْهُ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَلَوْ بَلَغَهُ لَرَجَعَ عَنْهُ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ ذَلِكَ كَيْلًا يَغْتَرَّ بِهِ الْجَاهِلُ فَيَتَوَهَّمَ أَنَّ ابْتِدَاءَ الطِّيبِ يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ، كَمَا قَالَ لِطَلْحَةَ فِي الثَّوْبِ الْمُمَشَّقِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج پر جاتے ہوئے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے خوشبو سونگھی تو پوچھا کہ یہ خوشبو کس سے آ رہی ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خوشبو لگا دی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تو اس کو جا کر اسی سے دھلوا دے، اللہ کی قسم! میں اگر محرم سے تارکول کی بو پاؤں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس سے خوشبو کی مہک پاؤں۔“
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ شاید انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث نہیں پہنچی، اگر پہنچتی تو وہ اس سے ضرور رجوع فرما لیتے اور ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اس وجہ سے اس کو ناپسند کیا ہو کہ جاہل آدمی دھوکا کھا کر یہ سمجھ بیٹھے گا کہ محرم کے لیے خوشبو لگانا شروع کرنا جائز ہے، جیسا کہ انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے گیرو سے رنگے ہوئے کپڑے کے بارے میں فرمایا تھا، واللہ اعلم۔