السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من استحب الإحرام من دويرة أهله ومن استحب التأخير إلى الميقات خوفا من أن لا يضبط باب: ان کا بیان جنہوں نے اپنے گھر سے احرام باندھنے کو مستحب قرار دیا اور جنہوں نے احرام کی پابندیاں نہ سنبھال سکنے کے خوف سے میقات تک تاخیر کرنے کو مستحب سمجھا۔
حدیث نمبر: 8933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِبُخَارَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِسْطَامٍ الْمَرْوَزِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْفَقِيهُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: ذَكَرَ مُسْلِمُ بْنُ مُحَارِبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ حِينَ فَتَحَ خُرَاسَانَ قَالَ: لَأَجْعَلَنَّ شُكْرِي لِلَّهِ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ مَوْضِعِي مُحْرِمًا فَأَحْرَمَ مِنْ نَيْسَابُورَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ لَامَهُ عَلَى مَا صَنَعَ قَالَ: لَيْتَكَ تَضْبِطُ مِنَ الْوَقْتِ الَّذِي يُحْرِمُ مِنْهُ النَّاسُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ نے جب خراسان فتح کیا تو کہا: میں اللہ کا یوں شکریہ ادا کروں گا کہ میں اسی جگہ سے احرام باندھ کر جاؤں گا، تو انہوں نے نیساپور سے احرام باندھا، تو جب وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اسی فصل پر ان کو ملامت کی اور فرمایا کہ کاش کہ تو اس وقت سے ضبط کرتا جس وقت لوگوں نے احرام باندھا تھا۔