السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المواقيت لأهلها ولكل من مر بها ممن أراد حجا أو عمرة باب: میقات والوں اور ان سے گزرنے والے ہر اس شخص کے لیے مواقیت کا بیان جو حج یا عمرے کا ارادہ رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 8921
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ وَقَالَ: " هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ مَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ وُهَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا اور اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن المنازل اور اہل یمن کے لیے یلملم اور فرمایا: ”یہ انہی کے لیے ہیں اور ان کے لیے بھی جو ان کے علاقوں کے علاوہ دوسرے علاقوں سے حج و عمرہ کی غرض سے آتے ہوئے یہاں سے گزرے اور جو ان سے اندر ہو وہ جہاں سے چلے وہیں سے شروع کرے، حتیٰ کہ اہل مکہ مکہ سے ہی تلبیہ و احرام کا آغاز کریں گے۔“