السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من قال بوجوب العمرة استدلالا بقول الله تعالى وأتموا الحج والعمرة لله باب: ان کا بیان جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”وأتموا الحج والعمرة لله“ (اور اللہ کے لیے حج اور عمرہ پورا کرو) سے استدلال کرتے ہوئے عمرے کو واجب قرار دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعْتَمِرٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَوْمًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدَرٌ، قَالَ: فَهَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا ⦗٥٧١⦘ قَالَ: فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي إِذَا لَقِيتَهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِيءٌ إِلَى اللهِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ بُرَءَاءٌ مِنْهُ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ سَحْنَاءُ سَفَرٍ وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ يَتَخَطَّى حَتَّى وَرِكِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَجْلِسُ أَحَدُنَا فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ وَتَعْتَمِرَ وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وَتُتِمَّ الْوُضُوءَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ " قَالَ: فَإِنْ قُلْتُ هَذَا فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: صَدَقْتَ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ.یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ تقدیر نہیں ہے“، کہنے لگے: ”کیا ان میں سے کوئی ہمارے پاس ہے؟“ میں نے کہا کہ نہیں! تو فرمایا کہ ”ان کو میری طرف سے یہ پیغام دینا، جب بھی تم ان سے ملنا کہ ابن عمر تم سے اللہ کی طرف سے بری ہے اور تم اس سے بری ہو“۔ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا، اس پر سفر کے اثرات نہ تھے اور نہ ہی وہ اہل علاقہ میں سے تھا، حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، جس طرح ہم نماز میں بیٹھتے ہیں، پھر اس نے اپنے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں پر رکھے اور پوچھا: اے محمد ﷺ! اسلام کیا ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور عمرہ کرنا، غسلِ جنابت کرنا، وضو مکمل کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا“۔ اس نے کہا: ”اگر میں یہ کروں تو کیا میں مسلمان ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں!“ پھر اس نے کہا: ”آپ ﷺ نے سچ فرمایا ہے“، (اور ساری حدیث ذکر کی)۔