أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: " نَزَلَتْ فَرِيضَةُ الْحَجِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْهِجْرَةِ وَافْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَانْصَرَفَ عَنْهَا فِي شَوَّالٍ وَاسْتُخْلِفَ عَلَيْهَا عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ فَأَقَامَ الْحَجَّ لِلْمُسْلِمِينَ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَحُجَّ وَأَزْوَاجُهُ وَعَامَّةُ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَبُوكَ فَبَعَثَ أَبَا بَكْرٍ فَأَقَامَ الْحَجَّ لِلنَّاسِ سَنَةَ تِسْعٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَحُجَّ لَمْ يَحُجَّ هُوَ وَلَا أَزْوَاجُهُ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى حَجَّ سَنَةَ عَشْرٍ. فَاسْتَدْلَلْنَا عَلَى أَنَّ الْحَجَّ فَرْضُهُ مَرَّةٌ فِي الْعُمُرِ، أَوَّلُهُ الْبُلُوغُ وَآخِرُهُ أَنْ يَأْتِيَ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ " قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مَوْجُودٌ فِي الْأَخْبَارِ وَالتَّوَارِيخِ أَمَّا مَا ذَكَرَهُ مِنْ نُزُولِ فَرِيضَةِ الْحَجِّ بَعْدَ الْهِجْرَةِ فَكَمَا قَالَ وَاسْتَدَلَّ أَصْحَابُنَا بِحَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَلَى أَنَّهَا نَزَلَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حج رسول اللہ ﷺ پر ہجرت کے بعد فرض ہوا اور مکہ آپ ﷺ نے رمضان کے مہینے میں فتح فرمایا اور وہاں سے شوال کو نکلے، وہاں عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق مسلمانوں کے لیے حج کا اہتمام کیا جبکہ آپ ﷺ مدینہ میں تھے اور آپ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن بھی اور اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی، حالانکہ آپ ﷺ حج کر سکتے تھے، پھر آپ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے نویں سال لوگوں کو حج کروایا اور رسول اللہ ﷺ مدینہ میں ہی تھے، آپ حج کرنے کی قدرت رکھتے تھے، لیکن آپ ﷺ نے، آپ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے اور آپ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی حج نہ کیا حتیٰ کہ ہجرت کے دسویں سال آپ ﷺ نے حج فرمایا: تو ہم اس بات سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ حج کا فریضہ بلوغت سے لے کر موت سے پہلے پہلے ایک مرتبہ عمر بھر میں عائد ہوتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ بات جو امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہے، آثار اور تواریخ کی کتب میں موجود ہے، رہی وہ بات جو انہوں نے ذکر کی کہ فریضہ حج کا نزول ہجرت کے بعد ہے تو ان کی بات درست ہے، ہمارے اصحاب نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ اس کی فرضیت صلح حدیبیہ کے وقت کی ہے۔