السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يستحب من تعجيل الحج إذا قدر عليه باب: استطاعت پا لینے کے بعد حج میں جلدی کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8698
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ بْنِ الْعُرْيَانِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ " حُجُّوا قَبْلَ أَنْ لَا تَحُجُّوا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى حَبَشِيٍّ أَصْمَعَ أَفْدَعَ بِيَدِهِ مِعْوَلٌ يَهْدِمُهَا حَجَرًا حَجَرًا " فَقُلْتُ لَهُ شَيْءٌ بِرَأْيِكَ تَقُولُ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اس سے پہلے حج کر لو کہ جب تم حج نہ کر سکو گے۔ گویا کہ میں ایک کمزور پنڈلیوں والے حبشی کو دیکھ رہا ہوں، اس کے ہاتھ میں تیشہ ہے، وہ ایک ایک پتھر کر کے کعبہ کو گرا رہا ہے“، میں نے کہا: یہ بات آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یا رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟ کہنے لگے: اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو پھاڑا اور کونپل کو اگایا! میں نے یہ بات تمہارے نبی ﷺ سے سنی ہے۔