السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: المرأة تعتكف بإذن زوجها ومن خرج منه قبل تمامه إذا لم يكن الاعتكاف واجبا باب: عورت کا اپنے شوہر کی اجازت سے اعتکاف کرنا، اور اگر اعتکاف واجب نہ ہو تو اسے مکمل کرنے سے پہلے اس سے نکل جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَذِنَ لَهَا وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا فَفَعَلَتْ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَاءٍ لَهَا فَبُنِيَ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ إِلَى بُنْيَانِهِ فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الْأَبْنِيَةُ؟ " قَالُوا: بِنَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبِرَّ أَرَدْنَ بِهَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ " فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَحْيَى.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا تو آپ ﷺ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے اجازت دے دی تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ وہ بھی اجازت لے لے تو انہوں نے بھی اجازت لی۔ جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو انہوں نے اپنے لیے خیمہ لگانے کا حکم دے دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد خیمے کی طرف پلٹے تو آپ ﷺ نے بہت سے خیمے دیکھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیسے خیمے ہیں؟“ انہوں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا، حفصہ رضی اللہ عنہا اور زینب رضی اللہ عنہا کے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ اس سے نیکی چاہتی ہیں؟ میں معتکف نہیں ہوں۔“ سو آپ ﷺ پلٹ آئے۔ جب روزے ختم کیے تو تب آپ ﷺ نے شوال کے عشرے میں اعتکاف کیا۔