❮
❯
حدیث نمبر: 8591
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ؟ قَالَ: نَعَمْ فَدَعَا بِخَمِيصَةٍ فَأَدْخَلَهَا عَلَيْهِ فَخَرَجْنَا فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ قَامَ فِينَا، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ خَرَجَ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَنَسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ". وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَثَارَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ، وَسَقْفُهُمْ يَوْمَئِذٍ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الطِّينِ وَالْمَاءِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ عَلَى أَرْنَبَتِهِ وَجَبْهَتِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ.
حافظ ثناء اللہ

ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے قریش کے چند لوگوں میں لیلۃ القدر کا تذکرہ کیا تو میں اٹھا اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو سعید! کیا آپ ہمارے ساتھ کھجوروں کے باغ کی طرف نہیں چلیں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ انہوں نے ایک دھاری دار چادر منگوائی اور اسے اوڑھ لیا، پھر ہم نکلے تو میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا، جب رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو آپ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جو نکل گیا ہو وہ لوٹ آئے، کیونکہ مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، پھر میں اسے بھول گیا، سو تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور مجھے دکھایا گیا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ اور ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، پھر نماز کی اقامت ہوئی تو ایک بادل اٹھا اور ہم پر بارش ہوئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہنے لگی، اور اس وقت ان کی چھت کھجور کی شاخوں کی تھی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو مٹی اور پانی میں سجدہ کرتے دیکھا یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی ناک کے کنارے اور پیشانی پر مٹی کا نشان دیکھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8591
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»