❮
❯
حدیث نمبر: 8589
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي وَسَطَ الشَّهْرِ فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ يَمْضِي عِشْرِينَ لَيْلَةً وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ رَجَعَ إِلَى مَسْكَنِهِ وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا فَخَطَبَ النَّاسَ فِيهَا فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ فَمَنِ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ" وَقَالَ: " رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ ⦗٥٢٥⦘ وَطِينٍ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فَوُكِفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مہینے کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، جب بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں رات آنے والی ہوتی تو آپ ﷺ اپنے گھر لوٹ آتے اور جو لوگ آپ ﷺ کے ساتھ اعتکاف کرتے تھے وہ بھی لوٹ آتے۔ پھر ایک مہینے میں جس میں آپ ﷺ اعتکاف کر رہے تھے، آپ ﷺ اس رات بھی ٹھہرے رہے جس میں آپ ﷺ لوٹ جایا کرتے تھے، تو آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو اللہ نے چاہا انہیں حکم دیا، پھر فرمایا: ”میں اس عشرے میں اعتکاف کیا کرتا تھا، پھر مجھ پر ظاہر ہوا کہ میں یہ آخری عشرہ اعتکاف کروں، سو جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنی اعتکاف کی جگہ میں رات گزارے۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہ رات دکھائی گئی، پھر بھلا دی گئی، سو تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اکیسویں رات ہم پر بارش ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کی نماز کی جگہ پر مسجد ٹپکنے لگی، میں نے آپ ﷺ کو دیکھا جب آپ ﷺ صبح کی نماز سے فارغ ہوئے اور آپ ﷺ کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8589
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»