السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الاعتكاف في المسجد باب: مسجد میں اعتکاف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8571
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ، وَالسُّنَّةُ فِي الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَخْرُجَ إِلَّا لِلْحَاجَةِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا وَلَا يَعُودُ مَرِيضًا وَلَا يَمَسُّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرُهَا وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ، وَالسُّنَّةُ فِيمَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ.حافظ ثناء اللہ
زوج النبی ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے حتیٰ کہ اللہ نے آپ ﷺ کو فوت کرلیا، پھر آپ ﷺ کے بعد آپ کی ازواج اعتکاف کیا کرتی رہیں۔
اعتکاف میں سنت طریقہ یہ ہے کہ معتکف نہ نکلے مگر ایسی حاجت کے لیے جس کے بغیر چارہ نہ ہو، نہ وہ تیمارداری کرے اور نہ ہی عورت کے قریب جائے اور نہ ہی مباشرت کرے اور جامع مسجد کے علاوہ اعتکاف نہیں ہے اور سنت اعتکاف میں یہ ہے کہ روزے بھی رکھے۔