حدیث نمبر: 8567
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ الْمَدِينِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ قَالَ فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ فَقَالَ: " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأُوَلَ الْتَمِسْ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ ثُمَّ أَتَيْتُ فَقِيلَ لِي إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ " فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ: " وَإِنِّي رَأَيْتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ وَإِنِّي أَسْجُدُ فِي صَبِيحَتِهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ " فَأَصْبَحَ فِي لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوُكِفَ الْمَسْجِدُ فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهَا الطِّينُ وَالْمَاءُ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر درمیانے عشرے کا اعتکاف ایک ترکی قبے میں کیا جس کے دروازے پر چٹائی تھی، وہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے چٹائی کو ہٹایا اور لوگوں سے گفتگو کی اور وہ آپ ﷺ کے قریب آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے پہلے عشرے کا اعتکاف اس رات کی تلاش میں کیا، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میرے پاس کوئی لایا گیا جس نے بتایا کہ یہ آخری عشرے میں ہے، سو تم میں سے جو کوئی اعتکاف کرنا پسند کرتا ہے وہ کر لے۔“ تو لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ اعتکاف کیا اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”میں طاق رات میں دکھایا گیا ہوں اور یہ کہ میں اس صبح پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ اور جب آپ ﷺ اکیس کی صبح تک مسجد میں ٹھہرے اور قیام کیا، رات کو آسمان نے بارش برسائی اور مسجد میں پانی کھڑا ہو گیا، پھر میں نے پانی اور مٹی کو دیکھا، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی لگی ہوئی تھی اور یہ آخری عشرے کی اکیس کی رات تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8567
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه المسلم»