❮
❯
حدیث نمبر: 8525
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ الْحَرْبِيُّ، فِي جَامِعِ الْحَرْبِيَّةِ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: سَأَلْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ قَالَ: أَنَا كُنْتُ أَسْأَلُ عَنْهَا يَعْنِي أَشَدَّ النَّاسِ مَسْأَلَةً عَنْهَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ يَعْنِي أَوْ فِي غَيْرِهِ قَالَ: " لَا، بَلْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ " فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَتَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا فَإِذَا قُبِضَتِ الْأَنْبِيَاءُ وَرُفِعُوا رُفِعَتْ مَعَهُمْ أَوْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: " لَا، بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " قَالَ: فَقُلْتُ فَأَخْبِرْنِي فِي أِيِّ شَهْرِ رَمَضَانَ هِيَ قَالَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْعَشْرِ الْأُوَلِ " ثُمَّ حَدَّثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ فَاهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَخْبِرْنِي فِي أِيِّ عَشْرٍ هِيَ، قَالَ: " ⦗٥٠٦⦘ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَ هَذَا " ثُمَّ حَدَّثَ وَحَدَّثَ فَاهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ فَقُلْتُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ بِحَقِّي عَلَيْكَ لَتُحَدِّثَنِّي فِي أِيِّ الْعَشْرِ هِيَ، فَغَضِبَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا مَا غَضِبَ عَلَيَّ مِنْ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ ثُمَّ قَالَ: " الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ وَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدُ ".
حافظ ثناء اللہ

مالک بن مرثد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا تھا؟ انہوں نے کہا: میں لوگوں میں سب سے زیادہ (اس کے متعلق) پوچھنے والا ہوں، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے لیلۃ القدر کے متعلق بتلائیے، کیا یہ رمضان میں ہے یا اس کے علاوہ بھی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ صرف رمضان کے مہینے میں۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ﷺ! کیا اس کا تعلق انبیاء سے ہے کہ جب وہ فوت کر لیے جاتے ہیں تو یہ رات بھی ان کے ساتھ اٹھا لی جاتی ہے یا پھر یہ قیامت تک ہی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ قیامت تک ہے۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: مجھے بتلائیے رمضان کے کس حصے میں ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے تلاش کرو پہلے اور آخری دس دنوں میں بھی۔“ پھر اللہ کے نبی ﷺ نے بیان کیا اور خوب بیان کیا، تو میں نے آپ ﷺ کی توجہ دوسری طرف ہونے کا موقع غنیمت جانا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی ﷺ! مجھے خبر دیجیے کہ یہ کس عشرے میں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اس کے بعد مجھ سے کچھ سوال نہیں کرنا۔“ پھر آپ ﷺ نے بیان کیا اور خوب بیان کیا، تو میں نے آپ ﷺ کی توجہ دوسری طرف ہونے کا موقع غنیمت جانا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو آپ پر ہے کہ آپ مجھے ضرور بتائیں کہ یہ عشرے کی کون سی رات ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ مجھ پر اس قدر ناراض ہوئے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ناراض ہوئے تھے اور نہ اس کے بعد، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرو اور اس کے بعد مجھ سے کچھ سوال نہیں کرنا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8525
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه احمد»