السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الدليل على أنها في كل رمضان باب: اس دلیل کا بیان کہ وہ (لیلۃ القدر) ہر رمضان میں ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ الْحَرْبِيُّ، فِي جَامِعِ الْحَرْبِيَّةِ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: سَأَلْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ قَالَ: أَنَا كُنْتُ أَسْأَلُ عَنْهَا يَعْنِي أَشَدَّ النَّاسِ مَسْأَلَةً عَنْهَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ يَعْنِي أَوْ فِي غَيْرِهِ قَالَ: " لَا، بَلْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ " فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَتَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا فَإِذَا قُبِضَتِ الْأَنْبِيَاءُ وَرُفِعُوا رُفِعَتْ مَعَهُمْ أَوْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: " لَا، بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " قَالَ: فَقُلْتُ فَأَخْبِرْنِي فِي أِيِّ شَهْرِ رَمَضَانَ هِيَ قَالَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْعَشْرِ الْأُوَلِ " ثُمَّ حَدَّثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ فَاهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَخْبِرْنِي فِي أِيِّ عَشْرٍ هِيَ، قَالَ: " ⦗٥٠٦⦘ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَ هَذَا " ثُمَّ حَدَّثَ وَحَدَّثَ فَاهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ فَقُلْتُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ بِحَقِّي عَلَيْكَ لَتُحَدِّثَنِّي فِي أِيِّ الْعَشْرِ هِيَ، فَغَضِبَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا مَا غَضِبَ عَلَيَّ مِنْ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ ثُمَّ قَالَ: " الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ وَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدُ ".مالک بن مراد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا تھا؟ انہوں نے کہا: میں لوگوں میں سب سے زیادہ (اس کے متعلق) پوچھنے والا ہوں، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے لیلۃ القدر کے متعلق بتلائیے، کیا یہ رمضان میں ہے یا اس کے علاوہ بھی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ صرف رمضان کے مہینے میں۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ﷺ! کیا اس کا تعلق انبیاء سے ہے کہ جب وہ فوت کر لیے جاتے ہیں تو یہ رات بھی ان کے ساتھ اٹھا لی جاتی ہے یا پھر یہ قیامت تک ہی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ قیامت تک ہے۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: مجھے بتلائیے رمضان کے کس حصے میں ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے تلاش کرو پہلے اور آخری دس دنوں میں بھی۔“ اللہ کے نبی ﷺ نے بیان کیا اور خوب بیان کیا حتیٰ کہ میں بھول گیا، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ﷺ! مجھے خبر دیجیے کہ یہ کس عشرے میں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اس کے بعد مجھ سے کچھ سوال نہیں کرنا۔“