حدیث نمبر: 8499
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ نَهَيْتُهَا عَنْهُمَا، وَقُلْتُ: لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتِ النَّاسَ، وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ وَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: " لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " وَأَمَّا قَوْلُهَا بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: " فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور ہم آپ کے پاس تھے تو اس نے کہا: ”یا رسول اللہ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا خاوند صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ مجھے مارتا ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو وہ افطار کروا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز بھی نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: صفوان رضی اللہ عنہ بھی پاس ہی تھے تو آپ ﷺ نے ان سے اس بات کے متعلق پوچھا جو عورت نے کہی تھی تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! جہاں تک اس کی یہ بات ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مارتا ہے تو وہ یہ بات ہے کہ وہ ایسی سورتیں پڑھتی ہے جن سے میں نے منع کیا ہے اور میں کہتا ہوں کہ اگر تو ایک ہی سورہ پڑھ لے تو سب کو کافی ہو، اور اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزے رکھتی ہوں تو وہ افطار کروا دیتا ہے تو یہ روزے ہی رکھتی چلی جاتی ہے اور میں نوجوان ہوں، صبر نہیں کر پاتا۔“ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت (نفلی) روزہ نہ رکھے مگر خاوند کی اجازت سے۔“ اور اس کا یہ کہنا کہ میں سورج طلوع ہونے کے بعد نماز فجر ادا کرتا ہوں تو جس خاندان سے میرا تعلق ہے وہ مشہور ہے کہ ہم سورج کے طلوع ہونے سے قبل بیدار ہو نہیں سکتے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو بیدار ہو تو نماز پڑھ لیا کر۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8499
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»