السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما جاء في فضل صوم داود عليه السلام باب: صومِ داؤد علیہ السلام کی فضیلت کے بارے میں جو مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ "، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللهِ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى.سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دن کا روزہ رکھ اور باقی کا اجر تیرے لیے ہے۔“ اس نے کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھ اور باقی کا اجر تیرے لیے ہے۔“ اس نے کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تین دن روزہ رکھ اور باقی کا اجر تیرے لیے ہے۔“ انہوں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو چار دن روزہ رکھ اور باقی اجر تیرے لیے۔“ اس نے کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جو اللہ کے نزدیک افضل روزے ہیں داود علیہ السلام کے وہ رکھ کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“