السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: في فضل صوم شعبان باب: شعبان کے روزے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 8428
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ روزے رکھا کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے: روزے ہی رکھے جائیں گے۔ اگر آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے اور کبھی کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ پورا شعبان روزے رکھتے سوائے چند ایام کے۔