السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: فضل الصوم في الأشهر الحرم باب: اشہرِ حرم (حرمت والے مہینوں) میں روزے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيَّةِ، عَنْ أَبِيهَا أَوْ عَمِّهَا أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْطَلَقَ فَعَادَ إِلَيْهِ بَعْدَ سَنَةٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُوسَى فَأَتَاهُ بَعْدَ سَنَةٍ وَقَدْ تَغَيَّرَتْ حَالُهُ وَهَيْئَتُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَمَا تَعْرِفُنِي؟ قَالَ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الْبَاهِلِيُّ الَّذِي جِئْتُكَ عَامَ أَوَّلَ، قَالَ: " فَمَا غَيَّرَكَ وَقَدْ كُنْتَ حَسَنَ الْهَيْئَةِ " قَالَ: مَا أَكَلْتُ طَعَامًا مُنْذُ فَارَقْتُكَ إِلَّا بِلَيْلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِمَ عَذَّبْتَ نَفْسَكَ صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَمِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمًا " قَالَ: زِدْنِي فَإِنَّ بِي قُوَّةً قَالَ: " صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمَيْنِ " قَالَ: زِدْنِي فَإِنَّ بِي قُوَّةً قَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " زَادَ عَبْدُ الْوَاحِدِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ قَالَ: زِدْنِي فَإِنَّ بِي ⦗٤٨٢⦘ قُوَّةً قَالَ: " صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ " يَقُولُهَا ثَلَاثًا، وَفِي رِوَايَةِ مُوسَى قَالَ: زِدْنِي قَالَ: " صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ " وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ فَضَمَّهَا ثُمَّ أَرْسَلَهَا.مجیبہ باہلیہ اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے پھر وہ چل دیے، پھر آپ ﷺ کی طرف لوٹے۔ ابوموسیٰ کی ایک روایت میں ہے کہ وہ سال کے بعد آئے۔ حالت و کیفیت تبدیل ہو چکی تھی۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ مجھے جانتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں وہ باہلی ہوں جو ایک سال پہلے آپ ﷺ کے پاس آیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کس چیز نے تبدیل کر دیا؟ تیری تو بہت اچھی ہیئت تھی۔“ انہوں نے عرض کیا: جب سے میں نے آپ ﷺ کو چھوڑا، رات کے علاوہ کبھی کھانا نہیں کھایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اپنے آپ کو عذاب کیوں دیا؟“ (پھر فرمایا:) ”تو صبر کے مہینے کے روزے رکھ اور ہر ماہ ایک روزہ۔“ انہوں نے عرض کیا: میرے لیے زیادہ کریں، میں طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مہینے دو روزے رکھ۔“ انہوں نے عرض کیا: اور اضافہ کریں، میں مزید طاقت رکھتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو تین دن کے روزے رکھو۔“ عبدالواحد نے یہ اضافہ کیا ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا:) ”ہر ماہ۔“ انہوں نے عرض کیا: میرے لیے اضافہ کریں، مجھ میں قوت ہے۔ فرمایا: ”حرمت والے مہینے میں روزہ رکھ اور افطار کر، حرمت والے مہینے میں روزہ رکھ اور افطار کر، حرمت والے مہینے میں روزہ رکھ اور افطار کر۔“ آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے تین (کا اشارہ) بتایا، ان کو بند کیا اور کھولا۔