السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما يستدل به على أنه لم يكن واجبا قط باب: ان شواہد کا بیان جن سے استدلال کیا جاتا ہے کہ وہ روزہ کبھی واجب نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 8419
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، ⦗٤٨٠⦘ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ " وَكَانَ عَبْدُ اللهِ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ یومِ عاشورہ کے بارے میں فرماتے تھے: ”یہ ایسا دن ہے جس کا جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے، جو کوئی تم میں سے پسند کرے وہ اس کا روزہ رکھے اور جو نہ چاہے وہ روزہ نہ رکھے۔“
(اور عبداللہ رضی اللہ عنہما روزے نہیں رکھتے تھے الا یہ کہ ان کے روزے ان دنوں میں آ جاتے۔)