السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من زعم أن صوم عاشوراء كان واجبا ثم نسخ وجوبه باب: ان کا بیان جن کا یہ گمان ہے کہ عاشوراء کا روزہ واجب تھا پھر اس کا وجوب منسوخ ہو گیا۔
حدیث نمبر: 8411
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ لِلْغَدَاءِ فَقَالَ أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: أَوَتَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟ إِنَّمَا كَانَ يَوْمًا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَكَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَجَرِيرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ وَرَوَاهُ زُبَيْدٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ وَقِيلَ: عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ، وَرَوَاهُ عَلْقَمَةُ عَنْ عَبْدِ اللهِ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ یومِ عاشوراء کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ کھانا کھا رہے تھے، کہنے لگے: اے ابو محمد! کھانے کے لیے قریب ہو جاؤ۔ انہوں نے کہا: کیا آج یومِ عاشوراء نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ یومِ عاشوراء کیا ہے؟ یہ تو ایک ایسا دن تھا جس کا رسول اللہ ﷺ رمضان کے نازل ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے، پھر جب رمضان نازل ہو گیا تو آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔