السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الصائم ينزه صيامه عن اللغط، والمشاتمة باب: روزہ دار اپنے روزے کو لغو باتوں اور گالم گلوچ سے پاک رکھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ⦗٤٤٩⦘ السَّعْدِيُّ، أنبأ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُ بِهِمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَفِي حَدِيثِ هِشَامٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ قَالَ اللهُ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور روزہ ڈھال ہے۔ سو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن بیہودگی نہ کرے اور نہ ہی گالی گلوچ کرے۔ اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی کرے تو اسے کہہ دے کہ ”میں صائم ہوں۔“ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن کستوری سے بھی پاکیزہ ہو گی اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں؛ جب افطار کرتا ہے تب خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا۔“
(ہشام کی حدیث جو پہلی ہے اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے۔“)