حدیث نمبر: 8260
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَبُو النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: وَكَانَ جَدُّهُ أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: " لَا تَكْتَحِلْ بِالنَّهَارِ وَأَنْتَ صَائِمٌ اكْتَحِلْ لَيْلًا، الْإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ " قَالَ الشَّيْخُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ هَوْذَةَ أَبُو النُّعْمَانِ وَمَعْبَدُ بْنُ هَوْذَةَ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ الَّذِي لَهُ هَذِهِ الصُّحْبَةُ.حافظ ثناء اللہ
ابو نعمان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے میرے دادا سے یہ بات بیان کی اور ان کے دادا نبی کریم ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ اسے نبی ﷺ کے پاس لائے تو آپ ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”دن میں سرمہ نہ لگاؤ اور تم روزے سے ہو اور رات کو «الْإِثْمِدِ» (اثمد) سرمہ لگاؤ کہ وہ بصارت کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے۔“