السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال يصوم عنه وليه باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھے گا“۔
حدیث نمبر: 8226
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ أُخْتَهَا نَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، وَأَنَّهَا رَكِبَتِ الْبَحْرَ فَمَاتَتْ وَلَمْ تَصُمْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُوْمِي عَنْ أُخْتِكِ " فَهَذَا اللَّفْظُ نَصٌّ فِي الصَّوْمِ عَنْهَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن نے ایک مہینے کے روزوں کی نذر مانی تھی، وہ سمندر پر سفر کر رہی تھی تو فوت ہو گئی اور اس نے وہ روزے نہیں رکھے تھے، تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”اپنی بہن کی طرف سے روزے رکھو۔“ یہ الفاظ اس کی طرف سے روزہ رکھنے کی دلیل ہیں۔