السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: المفطر يمكنه أن يصوم ففرط حتى جاء رمضان آخر باب: روزہ چھوڑنے والے کے لیے روزہ رکھنا ممکن ہو مگر وہ کوتاہی کرے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جائے۔
حدیث نمبر: 8211
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي رَجُلٍ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ وَعَلَيْهِ رَمَضَانُ آخَرُ، قَالَ: " يَصُومُ هَذَا، وَيُطْعِمُ عَنْ ذَاكَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، وَيَقْضِيهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جس کو رمضان نے پالیا جب کہ اس کے دوسرے رمضان کے روزے باقی تھے تو وہ اس رمضان کے روزے رکھے اور پچھلے رمضان کے ہر دن کے عوض مسکین کو کھانا کھلا دے اور قضا کرے۔