السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من اختار الصوم في السفر إذا قوي على الصيام ولم يكن به رغبة عن قبول الرخصة باب: اس شخص کا بیان جس نے سفر میں روزہ رکھنے کو ترجیح دی جب اس میں روزے کی طاقت ہو اور اسے رخصت قبول کرنے سے بے رغبتی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8168
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حدَّثَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْمُعَاوِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ، وَيَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ پر جاتے تو ہم میں سے روزے دار بھی ہوتے اور بے روزہ بھی، مگر کوئی صائم مفطر پر اور مفطر صائم پر عیب نہ لگاتا، وہ خیال کرتے کہ جس میں قوت ہے وہ روزہ رکھتا ہے تو اس نے کہا: ”اچھا کیا“ اور جو کمزوری محسوس کرتا ہے وہ افطار کرتا ہے تو فرمایا: ”اس نے بھی اچھا ہی کیا۔“