السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من فطر صائما باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جس نے کسی روزے دار کو افطار کروایا۔
حدیث نمبر: 8137
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے روزے دار کو افطار کروایا، اس کو اس کے عمل کے برابر اجر ملے گا جس نے عمل کیا اور روزے دار کے اجر میں کمی نہ ہوگی، اور جس نے غازی کو تیار کیا یا اس کے اہل میں اس کا نائب بنا، اس کے لیے ایسا ہی اجر ہوگا اس کے اجر میں کمی کیے بغیر۔“