السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الحائض تفطر في شهر رمضان باب: حائضہ (ایامِ مخصوصہ والی) عورت کا ماہِ رمضان میں روزہ چھوڑنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْن أَبِي أَبَانَ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ ⦗٣٩٧⦘ إِلَى الْمُصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَامَ فَوَعَظَ النَّاسَ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، تَصَدَّقُوا " ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ؛ فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ "، فَقُلْنَ: وَبِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ بِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ "، فَقُلْنَ لَهُ: مَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟ " قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: " فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، أَوَ لَيْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ، فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَالصَّغَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ.سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی یا عید الفطر میں عیدگاہ کی طرف نکلے، نماز پڑھی، پھر کھڑے ہو کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! صدقہ کرو۔“ پھر آپ ﷺ عورتوں کی طرف پھر گئے اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، میں نے تمہاری اکثریت کو دوزخ میں دیکھا ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو اور میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے والیوں میں سے تم میں سے کسی ایک سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا جو سمجھدار آدمی کی عقل کو ختم کر دے۔“ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دین میں کمی کیا ہے اور عقل میں کیا کمی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نہیں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہاری عقل کی کمی ہے اور کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ روزہ رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے؟ یہ تمہارے دین کا نقصان ہے۔“