السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: رواية من روى في هذا الحديث لفظة لا يرضاها أصحاب الحديث باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث میں ایسا لفظ روایت کیا ہے جسے محدثین پسند نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 8064
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ رَجُلٍ جَامَعَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: " ⦗٣٨٥⦘ عَلَيْهِمَا كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّ الصِّيَامَ عَلَيْهِمَا جَمِيعًا "، قِيلَ لَهُ: فَإِنِ اسْتَكْرَهَهَا؟ قَالَ: " عَلَيْهِ الصِّيَامُ وَحْدَهُ ".حافظ ثناء اللہ
عباس بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ اوزاعی رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں پر ایک ہی کفارہ ہے، سوائے روزے کے، مگر روزہ ان دونوں پر ہے؛ انہیں کہا گیا کہ اگر عورت نہ چاہتی ہو تو انہوں نے فرمایا کہ پھر مرد اکیلے پر روزہ ہے۔