السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: رواية من روى هذا الحديث مطلقة في الفطر دون التقييد بالجماع، وبلفظ يوهم التخيير دون الترتيب باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث کو جماع کی قید کے بغیر مطلقاً روزہ توڑنے کے بارے میں روایت کیا ہے، اور ایسے الفاظ کے ساتھ جو ترتیب کے بجائے اختیار کا وہم پیدا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8054
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى أَهْلِهِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً "، قَالَ: مَا أَجِدُهَا، قَالَ: " فَصُمْ شَهْرَيْنِ "، قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک نبی کریم ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں کہا جو رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا تھا کہ ”غلام آزاد کر“، اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو مہینے کے روزے رکھ“، اس نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“