السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من ذرعه القيء لم يفطر، ومن استقاء أفطر باب: اس شخص کا بیان جس پر قے غلبہ پا گئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 8031
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ، عَنْ بَلْجٍ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا لِثَوْبَانَ: حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ.حافظ ثناء اللہ
ابو شبیہ مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے قے کی اور پھر افطار کر دیا۔