السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من ذرعه القيء لم يفطر، ومن استقاء أفطر باب: اس شخص کا بیان جس پر قے غلبہ پا گئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 8029
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ الرَّجُلُ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللهُ إِيَّاهُ، وَإِذَا تَقَيَّأَ وَهُوَ صَائِمٌ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَإِذَا ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس نے روزے کی حالت میں بھول کر کھا لیا تو وہ رزق ہے جو اللہ نے اسے عطا کیا ہے، اور جب وہ روزے کی حالت میں قے کر لے تو اس پر قضا ہے، اور جب زبردستی قے آ جائے تو پھر قضا نہیں ہے۔