السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من ذرعه القيء لم يفطر، ومن استقاء أفطر باب: اس شخص کا بیان جس پر قے غلبہ پا گئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 8025
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: " وَمَنْ تَقَيَّأَ وَهُوَ صَائِمٌ وَجَبَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَمَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ "، وَبِهَذَا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ ”جس نے جان بوجھ کر قے کی، اس پر قضا واجب ہے اور جسے قے آ جائے اس پر قضا نہیں ہے۔“ یہ خبر ہمیں مالک رحمہ اللہ نے دی۔