السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: التغليظ على من أفطر قبل غروب الشمس باب: اس شخص پر سختی کا بیان جس نے سورج غروب ہونے سے قبل روزہ افطار کر لیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ فَأَخَذَا بِضَبْعِيَّ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا لِيَ: اصْعَدْ، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيقُهُ، فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ، فَصَعِدْتُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ، إِذَا أَنَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطُلِقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ، مُشَقَّقَةٌ أَشْدَاقُهُمْ، تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ ".سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”ایک دفعہ میں سو رہا تھا تو میرے پاس دو آدمی آئے اور انہوں نے مجھے کندھوں سے پکڑا اور جبلِ احد پر لے آئے اور مجھ سے کہنے لگے: ”اس پر چڑھئیے“، میں نے کہا: ”میں اس پر چڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”ہم آپ کے لیے اس کو آسان کر دیں گے“ تو میں اس پر چڑھا حتیٰ کہ جب میں پہاڑ پر آیا تو میں نے شدید آوازیں سنیں تو میں نے کہا: ”یہ آوازیں کیسی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ جہنمیوں کی چیخ و پکار ہے۔“ پھر مجھے آگے لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایک ایسی قوم کے پاس تھا جو الٹے لٹکائے ہوئے تھے اور ان کی باچھیں چیری ہوئی تھیں اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے کہا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو افطار کے جائز ہونے سے پہلے افطار کر لیتے تھے۔““