السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الوقت الذي يحرم فيه الطعام على الصائم باب: اس وقت کا بیان جس میں روزے دار پر کھانا حرام ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8002
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هُمَا فَجْرَانِ، فَأَمَّا الَّذِي كَأَنَّهُ ذَنَبُ السِّرْحَانِ فَإِنَّهُ لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ، وَأَمَّا الْمُسْتَطِيلُ الَّذِي يَأْخُذُ بِالْأُفُقِ فَإِنَّهُ يُحِلُّ الصَّلَاةَ وَيُحَرِّمُ الطَّعَامَ ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا بِذِكْرِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو فجریں ہوتی ہیں، جو فجرِ کاذب ہوتی ہے وہ بھیڑیے کی دم کی طرح ہوتی ہے، وہ کسی چیز کو حرام کرتی ہے اور نہ حلال کرتی ہے، لیکن وہ جو کناروں میں پھیلی ہوتی ہے وہ کھانے کو حرام کرتی ہے اور نماز کو جائز کرتی ہے۔“