السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما كان عليه حال الصيام من الخيار بين الصوم وبين الإطعام إلى أن تعين فرضه على من أطاقه ولم يكن له عذر، وصار الأمر الأول منسوخا باب: روزوں کے اس سابقہ حال کا بیان جب روزہ رکھنے اور کھانا کھلانے کے درمیان اختیار تھا، یہاں تک کہ اس کی فرضیت اس شخص پر متعین ہو گئی جو اس کی طاقت رکھتا ہو اور اس کا کوئی عذر نہ ہو، اور پہلا حکم منسوخ ہو گیا۔
حدیث نمبر: 7899
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ النَّسَوِيِّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَيَّاشٌ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَرَأَ {فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ} قَالَ: " هِيَ مَنْسُوخَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت ﴿فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ﴾ [سورة البقرة: 184] پڑھی، پھر انہوں نے کہا کہ یہ منسوخ ہو چکی ہے۔