السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: بيان اليد العليا واليد السفلى باب: اوپر والے ہاتھ (دینے والے) اور نیچے والے ہاتھ (مانگنے والے) کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّاذْيَاخِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَخَلَّفُونِي فِي رِحَالِهِمْ، ثُمَّ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ ثُمَّ، قَالَ: " هَلْ بَقِيَ فِيكُمْ أَحَدٌ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ غُلَامٌ مِنَّا خَلَّفْنَاهُ فِي رِحَالِنَا فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَبْعَثُونِي إِلَيْهِ فَأَتَوْنِي، فَقَالُوا: أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: " مَا أَغْنَاكَ اللهُ لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا فَإِنَّ يَدَ الْمُنْطِيَةِ الْعُلْيَا وَإِنَّ الْيَدَ السُّفْلَى هِيَ الْمَنْطَاةُ وَإِنَّ مَالَ اللهِ لَمَسْئُولٌ وَمَنْطِيٌّ " قَالَ: فَكَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُغَتِنَا.عروہ بن محمد بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے دادا کے حوالے سے بتایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا سعد بن بکر کے لوگوں میں اور میں قوم میں سب سے چھوٹا تھا تو انہوں نے مجھے اپنے سامان، خیموں میں چھوڑ دیا۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اپنی ضرورت پوری کی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی باقی بھی ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک بچہ ہے جسے ہم پیچھے خیموں میں چھوڑ آئے ہیں تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ مجھے آپ ﷺ کے پاس بھیجیں تو وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کی بات سنو“ تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”اللہ نے تجھے غنی کیا ہے سو تو لوگوں سے کچھ نہ مانگنا“ اور فرمایا: ”دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور نیچے کا ہاتھ وہ لینے والا ہے اور بیشک جو اللہ کا مال ہے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا اور دیا جائے گا۔“ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ہماری زبان میں بات کی۔