السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: فضل الاستعفاف والاستغناء بعمل يديه وبما آتاه الله عز وجل من غير سؤال باب: سوال کیے بغیر اپنے ہاتھوں کی کمائی اور اللہ عزوجل کی عطا کردہ نعمت کے ذریعے پاک دامنی اختیار کرنے اور بے نیاز رہنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7866
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ⦗٣٢٨⦘ قَالَا: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ، قَالَ: " مَا يَكُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ وَمَنْ يسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ وَمَنْ يصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِنْ عَطَاءٍ خَيْرًا وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ " لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصاریوں میں سے کچھ لوگوں نے سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں دیا، پھر انہوں نے مانگا۔ آپ ﷺ نے پھر دیا حتیٰ کہ آپ ﷺ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو میرے پاس ہوگا میں اسے ذخیرہ نہیں بناؤں گا تم سے چھپاکر اور جو کوئی سوال کرنے سے بچے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لیں گے اور جو کوئی بے پروا ہوگا، یعنی ہونا چاہے گا تو اللہ اسے مستغنی کر دیں گے اور جو کوئی صبر کرے گا، اللہ اسے صبر کا صلہ دیں گے اور جو کوئی بھلائی دیا گیا وہ اس کے صبر سے زیادہ نہیں ہے۔“