السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: فضل الصدقة من المال الحلال باب: حلال مال سے صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7840
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ أَلَا تَدْعُو لِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةً إِلَّا بِطَهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ " وَقَدْ كُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ابن عامر کی عیادت کے لیے ان کے پاس گئے، تو انہوں نے کہا: اے ابن عمر! کیا آپ میرے لیے دعا نہیں کریں گے؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”بغیر طہارت و پاکیزگی کے نماز (قبول) نہیں اور دھوکے (خیانت کے مال) سے کوئی صدقہ (قبول) نہیں“ اور تو بصرہ (کا حاکم) تھا۔