السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: فضل الصدقة من المال الحلال باب: حلال مال سے صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7838
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللهِ إِلَّا الطَّيِّبُ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ وَيُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَالَ: وَقَالَ وَرْقَاءُ: فَذَكَرَهُ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی نے پاکیزہ کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر خرچ کیا، اور اللہ کی طرف صرف پاکیزہ کلمات (چیزیں) ہی چڑھتی ہیں، یقیناً اسے اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتے ہیں، پھر اس کے صاحب کے لیے اس کی پرورش کرتے ہیں، جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے۔“