السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: فضل صدقة السر باب: خفیہ صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا يَحْيَى يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَدْلُ، وَرَجُلٌ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا، فَلَا تَعْلَمُ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى. كَذَا قَالُوا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ: " لَا تَعْلَمُ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ "، وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالُوا فِيهِ: ⦗٣٢٠⦘.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سات افراد ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دیں گے جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: ایک امامِ عادل، دوسرا وہ جس نے اللہ کی عبادت میں پرورش پائی، تیسرا وہ جس کا دل مساجد کے ساتھ لگا ہوا ہے اور وہ افراد جو صرف اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں اس بنا پر وہ اکٹھے ہوئے اور اسی لیے جدا ہوتے ہیں اور ایک وہ شخص جسے حسب نسب والی خوبصورت عورت نے بلایا تو اس نے کہا: میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور ایک وہ شخص جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ دائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہوا کہ بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے اور ایک وہ جس نے علیحدگی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔“
امام مسلم رحمہ اللہ نے زہیر بن حرب کے حوالے سے یحییٰ قطان سے نقل کیا کہ عبداللہ نے کہا: ”اس کا دایاں نہیں جانتا جو بائیں نے خرچ کیا۔“