السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: فضل صدقة الصحيح الشحيح باب: تندرست اور مال کی حرص رکھنے والے شخص کے صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7833
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: أَوْصَى إِلَيَّ رَجُلٌ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ أَضَعُهَا، فَأَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَاسْتَأْمَرْتُهُ فِي الْفُقَرَاءِ، أَوْ فِي الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُهَاجِرِينَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَالَّذِي يُهْدِي بَعْدَ الشِّبَعِ ".حافظ ثناء اللہ
ابو حبیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے مجھے اپنے مال کے ایک حصے کے بارے میں وصیت کی کہ میں اسے (مناسب جگہ) رکھوں، تو میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے فقراء یا مہاجرین (کو دینے) کے بارے میں مشورہ طلب کیا، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک میرا تعلق ہے تو اگر میں (تمہاری جگہ) ہوتا تو مہاجرین کے برابر کسی کو نہ سمجھتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”اس شخص کی مثال جو موت کے وقت آزاد کرتا ہے وہ ایسی ہے جو پیٹ بھرنے کے بعد دیتا ہے۔“