السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية البخل والشح، والإقتار باب: بخل، شدید حرص (کنجوسی) اور خرچ میں تنگی کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، أَوْ مَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ بندے کو معاف کرنے سے عزت میں اضافہ کرتے ہیں اور جو کوئی اللہ کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند کر دیتے ہیں۔“