حدیث نمبر: 7803
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاشْتَهَى عِنَبًا أَوَّلَ مَا جَاءَ الْعِنَبُ فَأَرْسَلَتْ صَفِيَّةُ بِدِرْهَمٍ فَاشْتَرَتْ عُنْقُودًا بِدِرْهَمٍ، فَاتَّبَعَ ⦗٣١١⦘ الرَّسُولَ سَائِلٌ، فَلَمَّا أَتَى الْبَابَ دَخَلَ، قَالَ السَّائِلُ: السَّائِلُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَعْطُوهُ إِيَّاهُ "، فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ أَرْسَلَتْ بِدِرْهَمٍ آخَرَ فَاشْتَرَتْ بِهِ عُنْقُودًا، فَاتَّبَعَ الرَّسُولَ السَّائِلُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ وَدَخَلَ قَالَ السَّائِلُ: السَّائِلُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَعْطُوهُ إِيَّاهُ "، فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهُ، وَأَرْسَلَتْ صَفِيَّةُ إِلَى السَّائِلِ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَئِنْ عُدْتَ لَا تُصِيبَنَّ مِنِّي خَيْرًا أَبَدًا، ثُمَّ أَرْسَلَتْ بِدِرْهَمٍ آخَرَ، فَاشْتَرَتْ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ

نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہو گئے تو انہوں نے انگور کی خواہش کی، سب سے پہلے جو انگور آئے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے درہم بھیجا اور ایک درہم سے انگور کا گچھا خریدا اور پیغام لانے والے کے پیچھے ایک سائل چلا، جب وہ دروازے پر آئے تو اندر داخل ہو گئے اور اس نے کہا: سائل ہے؟ سائل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ اس کو دے دو، تو انہوں نے اسے دے دیا، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو پیغام بھیجا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر تو پلٹتا تو مجھ سے بھلائی نہ پاتا، پھر انہوں نے دوسرا درہم بھیجا اور اس سے خریدا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7803
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الطبراني»