السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد في تفسير الماعون باب: ماعون (روزمرہ استعمال کی عام چیزیں) کی تفسیر کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7797
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمَاعُونِ، قَالَ: " أَيْشِ يَقُولُونَ فِيهَا؟ " قَالَ: قُلْتُ: يَقُولُونَ مَا يَتَعَاطَى النَّاسُ بَيْنَهُمْ، قَالَ: " مَا يَقُولُونَ شَيْئًا، هُوَ الْمَالُ الَّذِي لَا يُعْطَى حَقُّهُ ".حافظ ثناء اللہ
علی بن ربیعہ الوالبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے «الْمَاعُونَ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے سے جو چیز لیتے دیتے ہیں، تو انہوں نے کہا: جو وہ کہتے ہیں وہی مال ہے جس کا حق نہیں دیا جاتا۔